آئین نیشنل پریس کلب

آئین نیشنل پریس کلب  رحیم یارخان (رجسٹرڈ )

2۔ ادارہ ہذا کے کسی عہدیدار/ رکن مجلس عاملہ کے وفات پانے یا مستعفی ہونے کی صورت میں مجلس عاملہ عرصہ انتخاب کے آخری نصف حصہ میں خالی ہونیوالی نشست کو سادہ اکثریت سے پر کر سکے گی۔ مجلس عاملہ کے علاوہ ادارہ ہذا کا کوئی بھی رکن اس انتخاب میں حصہ لے سکے گا/گی۔ عرصہ انتخاب کے پہلے حصہ میں خالی ہونیوالی نشست پر دوبارہ انتخاب کیلئے مجلس عاملہ تین رکنی الیکشن کمیٹی مقرر کرے گی جو ایک ماہ کے اندر خالی ہونیوالی نشست پر انتخاب کرائے گی۔ جنرل کونسل کے ممبران خالی نشست پر عہدیدار/ رکن مجلس عاملہ کا چناؤ کریں گے۔
حصہ ج: انتخابات کے قواعد وضوابط:
1۔ الیکشن کمیٹی کا کوئی رکن انتخاب میں حصہ نہیں لے سکے گا/گی۔ تاہم الیکشن کمیٹی ارکان حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔ الیکشن کمیٹی کے ارکان کو کسی امیدوار کے حق میں رائے ہموار کرنے یا انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
2۔ مجلس عاملہ یا جنرل کونسل کے دیئے گئے ٹائم فریم میں انتخاب نہ کرانے کی صورت میں الیکشن کمیٹی از خود تحلیل ہوجائے گی۔ ایسی صورت میں جنرل کونسل آئینی طریقہ کار کے مطابق اجلاس منعقد کرکے الیکشن کمیٹی کو انتخاب کیلئے دی گئی مدت میں توسیع یا نئی الیکشن کمیٹی کا تقرر کرنے کی مجاز ہوگی۔
3۔ الیکشن کمیٹی اپنی تقرری کے بعد اجلاس منعقد کرکے ادارہ ہذا کے ارکان کو بذریعہ نوٹس بورڈ یا دوسرے طریقوں سے انتخابی شیڈول سے آگاہ کرے گی اور حسب ذیل امور یقینی بنائے گی۔ انتخابی شیڈول کے اجراء اورکا غذات نامزدگی وصول کرنے کی تاریخ میں کم از کم وقفہ 3دن ہوگا۔ کاغذات نامزدگی کی وصولی کی تاریخ اور جانچ پڑتال کی تاریخ‘ امیدواران کی ابتدائی فہرست کے اجراء کی تاریخ اور کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل کئے جانے کی تاریخ‘ اپیلوں کی سماعت وفیصلے کی تاریخ اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تاریخ میں کم از کم ایک‘ ایک یوم کا وقفہ ہوگا۔ امیدواران کی حتمی فہرست کے اجراء اور انتخابات کیلئے پولنگ کی تاریخ میں وقفہ کم از کم 3یوم ہوگا۔
4۔ جنرل کونسل کا کوئی بھی رکن انتخاب کیلئے 5عہدیداران اور6 اراکین مجلس عاملہ کے نام تجویز کرسکتا /سکتی ہے۔ اسی طرح جنرل کونسل کا کوئی بھی رکن انتخاب کیلئے 5عہدیداران اور 6 اراکین مجلس عاملہ کے نام کی تائید کرسکتا/سکتی ہے۔ تاہم کوئی بھی رکن بیک وقت کسی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ نہیں ہوسکے گا/گی ۔
5۔ امیدوار الیکشن کمیٹی کو ذاتی حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گا/گی۔ الیکشن کمیٹی کاغذات نامزدگی کی وصولی کے بعد امیدوار یا اس کے تجویز /تائید کنندہ کو باقاعدہ رسید جاری کرے گی۔ الیکشن کمیٹی کسی امیدوار کے کاغذات مسترد ہونے کی صورت میں اسے تحریری طور پر وجوہات سے آگاہ کرے گی۔
6۔ ووٹر کوصرف اتنے امیدواروں کو ووٹ دینے کا حق ہوگا جتنے امیدواروں کا انتخاب درکار ہو۔ بصورت دیگر ووٹ منسوخ اور مسترد تصور کیا جائے گا۔
ووٹرز کے پاس نیشنل پریس کلب رحیم یارخان کا رجسٹریشن کارڈ ہونا لازمی ہے ۔بصورت دیگر ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتا ۔
7۔ جن عہدوں کیلئے انتخاب نہ لڑا جا رہا ہو وہ بیلٹ پیپر میں شامل نہیں کئے جائیں گے۔
8۔ ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگی۔ ووٹر ذاتی حیثیت سے ووٹ کاسٹ کرے گا/گی ۔ بذریعہ ڈاک یا کسی دوسرے کے ذریعہ سے حق رائے دہی استعمال کرنے کا اہل نہ ہوگا/گی ۔
9۔ الیکشن کمیٹی انتخابی عمل کے دوران امن وامان برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہدایات جاری اور فیصلے کرسکے گی جس کی پابندی تمام امیدواروں اور ووٹرز پر لازم ہوگی۔ اگر پولنگ کے دوران حالات کنٹرول سے باہر ہوں تو کمیٹی پولنگ روکنے اور مناسب وقت پر دوبارہ شروع کرانے کی مجاز ہوگی۔ پولنگ 24 گھنٹے سے زیادہ عرصہ کیلئے ملتوی نہیں کی جاسکے گی۔
10۔ الیکشن کمیٹی امیدواران کے نامزد کردہ پولنگ ایجنٹس/ نمائندوں کو ووٹنگ کے عمل میں موجود رہنے کی اجازت دے سکے گی۔پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیٹی موقع پر نتیجہ کا اعلان کرنے کی پابند ہوگی۔
11۔ الیکشن کمیٹی انتخاب کا تمام ریکارڈ نتیجہ کے اعلان کے 60 دن بعد تک اپنے پاس محفوظ رکھے گی۔ کوئی بھی امیدوار ریکارڈ کی جانچ پڑتال یا دوبارہ گنتی یا انتخابی نتائج کے خلاف اپیل کیلئے انتخاب کے بعد 10یوم کے اندر 15سو روپے فیس (ناقابل واپسی) کے ہمراہ تحریری درخواست چیئرمین الیکشن ٹریبونل کو دے گا/گی ۔ الیکشن ٹریبونل 5یوم کے اندر اپیل کی سماعت کرے گا اور فیصلہ دے گا۔ کسی دوسرے فورم پر اپیل نہ ہوسکے گی۔ 3رکنی الیکشن ٹریبونل بشمول چیئرمین کا تقرر ہرسال ادارہ ہذا کی جنرل کونسل کے سالانہ اجلاس میں سادہ اکثریت سے کیا جائے گا۔ اگر کسی وجہ سے جنرل کونسل الیکشن ٹریبونل قائم نہ کرسکے تو مجلس عاملہ الیکشن کمیٹی کے تقرر سے قبل اپنے اجلاس میں سادہ اکثریت سے الیکشن ٹریبونل کا تقرر کرسکے گی۔
دفعہ نمبر12: مالیاتی امور:
ادارہ ہذا کی آمدنی ادارہ ہذا کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ اخراجات کی ادائیگی بذریعہ چیک ہوگی۔ بینک اکاؤنٹ صدر اور فنانس سیکرٹری کے دستخطوں سے آپریٹ ہوگا۔ تاہم ان میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی میں جنرل سیکرٹری کو دوسرے دستخط کرنے کا اختیار ہوگا۔ فنانس سیکرٹری حساب آمد وخرچ کا روزنامچہ ‘ کیش بک وغیرہ مرتب کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ واؤچر پر صدر اور فنانس سیکرٹری کے دستخط ہوں گے۔ ہر ماہ بعد حساب آمد وخرچ مجلس عاملہ اور جنرل کونسل کے سالانہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
دفعہ نمبر13: فیس: ادارہ ہذا کی بنیادی رکنیت فیس مبلغ ایک ہزار روپے اور سالانہ فیس5 سو روپے ہوگی‘ ایسوسی ایٹ رکن کیلئے رکنیت فیس ایک ہزار روپے اور سالانہ فیس 5 سو روپے ہوگی۔تاحیات رکن‘ رکنیت فیس اور سالانہ فیس سے مستثنیٰ ہوگا۔ فنانس سیکرٹری فیس وصول کرکے رسید جاری کرے گا۔ بنیادی رکنیت فیس ادارہ ہذا کی رکنیت کیلئے دی جانیوالی درخواست کے ساتھ ادا کرنا ہوگی۔ باڈی کی مدت پوری ہونے پر 31اکتوبر  تک سالانہ فیس ادا نہ کرنے والے ارکان انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے اہل نہ ہوں گے۔ انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کی فیس کا تعین مجلس عاملہ الیکشن کمیٹی کے تقرر سے قبل اپنے اجلاس میں کرے گی۔ انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار فیس الیکشن کمیٹی کے پاس جمع کرائیں گے۔ الیکشن کمیٹی انتخابی عمل مکمل ہونے پر جمع شدہ فیس کی رقم نومنتخب فنانس سیکرٹری کو جمع کرانے کی پابند ہوگی۔
دفعہ نمبر14: آئین میںترمیم:
آئین میں ترمیم کا اختیار جنرل کونسل کو ہوگا‘ آئین میں ترمیم کیلئے جنرل کونسل کے ارکان کا کورم دوتہائی اور آئین میں ترمیم بھی کل ارکان کی دو تہائی اکثریت سے ہوگی۔ منظور ہونے والی آئینی ترامیم فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔
(درج بالا مسودہ آئین نیشنل پریس کلب رحیم یارخان کی منظوری مورخہ 16 جون2024ء کو منعقدہ نیشنل پریس کلب رحیم یارخان رجسٹرڈ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں کل ارکان کی دوتہائی اکثریت کی منظوری سے دی گئی۔)

پچھلا صفحہ 1 2 3 4 5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button