پریس کونسل آف پاکستان آرڈیننس ،2002

 پریس کونسل آف پاکستان آرڈیننس ،2002
Press Council of Pakistan Ordinance, 2002


پریس  کونسل آف پاکستان آرڈیننس بھی 2002میں نافذ کیا گیا تھا  جس کا مقصد ملک میں پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات  و رسائل کو ریگولیٹ کرنا تھا اس آرڈیننس کے تحت  19رکنی پریس کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ،جس کا بنیادی مقصد 19نکاتی ضابطہ اخلاق کے عملی نفاذ کو یقینی بنانا ہے


یہ کونسل درج ذیل اراکین پر مشتمل ہے ۔

۔۔۔۔چئیرپرسن
۔۔۔۔اخبار مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کے چار نمائندے
۔۔۔۔مدیران کی تنظیم سی پی این ایس کے 4نمائندے
۔۔۔۔ہائر ایجوکیشن کمشن کا نامزد کردہ نمائندہ
۔۔۔۔نیشنل کمشن آن سٹیٹس آف ویمن کی جانب سے نامزد کردہ خاتون رکن
۔۔۔۔پاکستان بار کونسل کا نامزد کردہ نمائندہ
۔۔۔۔قومی اسمبلی میں قائد ایوان کی جانب سےنامزد کردہ ایک رکن اسمبلی
۔۔۔۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے نامزد کردہ ایک رکن اسمبلی


پرس کونسل آف پاکستان کا قانون جنرل (ریٹائرڈ )پرویز مشرف کے دور میں اخبارات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے متعارف کرایا گیا ،
جس کی میڈیا اور صحافتی تنظیمو ں نے بھر پور مخالف کی  اور اسے ماضی کی آمرانہ حکومتوں کی جانب سے اخبارات کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ،
اس ادارے کے بورڈ میں اخبار مالکان ،مدیران ،صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے علاوہ سرکاری عہدیداروں کو نمائندگی دی گئی تھی ،
پریس کونسل کے قانون کے تحت ذیلی تحقیقات کمیٹیوں میں عامل صحافیوں (ورکنگ جرنلسٹ )کی عدم موجودگی پر صحافیوں کا اعتراض تاحال بر قرار ہے ۔
یہ ادارہ مختلف وجوہات کی بنا پر عملی طور پر غیر فعال رہا ہے ،اور اخبارات میں چھپنےوالی خبروں کے خلاف عام شہریوں کی شکایت پر آج تک کوئی ٹھوس کاروائی نہیں کی جا سکی ،
اخباری صنعت میں ایڈیٹر کے عہدے کے فقدان کے باعث اخباری خبروں سے متعلق عام شہریوں کے تحفظات پر ابھی بھی کوئی ٹھوس کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ،
چند اخبارات میں اخباری محتسب کی تقریری اور پریس کونسل کی عدم فعالیت کے باعث اب یہ ادارہ عملی طور پر غیر موثر ہو چکا ہے ۔

اک نظر ان خبروں پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
پیچھے جائیں
WhatsApp
Telegram
Skype
Messenger
Viber
ای میل