لوگ ہیلمٹ کی اہمیت سے واقف ہونے کے باوجود سستی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں

رحیم یارخان: لوگ ہیلمٹ کی اہمیت سے واقف ہونے کے باوجود سستی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ای چالان نظام فعال ہے اس سے کوئی بچ نہیں پائے گا ،چالان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی قیمتی جان کی فکر کی جائے اور موٹرسائیکل پر ہیلمٹ کے استعمال کو عادت میں شامل کرلیں،

ان خیالات کا اظہار ڈی ایس پی ٹریفک چوہدری محمدا صغر نے گزشتہ روز نیشنل پریس کلب کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت صدر فیاض محمودخان نے کی جبکہ وفد میں انفارمیشن سیکرٹری اظہر حسین چوہدری، چیئرمین مجلس عاملہ امیر فیصل علی خان، ایگزیکٹو ممبر جام خالد محمود، جام رب نواز، ممبر عمران سہیل، ترنڈہ سوائے خان پریس کلب سے محمد خالد اور شاہین پریس کلب اقبال آباد سے فصیح اللہ شامل تھے۔

ڈی ایس پی ٹریفک چوہدری محمداصغر نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میں موٹرسائیکل پر ہیلمٹ کا استعمال اسی طرح ضروری سمجھا جاتا ہے

جس طرح ہمارا سانس لینا تاہم ایشیائی ممالک خصوصاً پاکستان میں جہاں موٹرسائیکلز کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر لوگ اپنی روایتی سستی ،لاپرواہی کے باعث جان سے مہنگا ہیلمٹ کو سمجھتے ہیں اور چند ہزار روپے خرچ کرنا گوارہ نہیں کرتے جبکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سب سے زیادہ ہیڈ انجری کے واقعات موٹرسائیکل سواروں میں ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم موٹرسائیکل کی سواری کرتے وقت ہیلمٹ کا استعمال اسی طرح ضروری سمجھیں جیسے ہم سانس لیتے ہیں۔

انہوںنے مزید کہاکہ بڑے شہروں میں 90فیصد لوگ موٹرسائیکل سواری کے دوران ہیلمٹ استعمال کررہے ہیں مگر چھوٹے شہروں جن میں رحیم یارخان بھی شامل ہے میں لوگ ہیلمٹ کو بوجھ سمجھ کر اسے گھر میں ہی بھول آتے ہیں اور بالآخر چالان کروالیتے ہیں ،

اب ای چالان کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے لہذا ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہیلمٹ اپنی موٹرسائیکل پر ہی باندھ رکھیں اور بوقت ضرورت اسے استعمال میں لائیں تاکہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہیڈانجری سے بچا جاسکے ۔

انہوں نے کہاکہ ٹریفک پولیس کا ایجوکیشن یونٹ اپنی تمام تر ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہا ہے اور تعلیمی اداروں سمیت مختلف عوامی مراکز پر لوگوں کو ہیلمٹ کی اہمیت بارے آگاہی دے رہاہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہر شخص اپنے حصہ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے لوگوں کو آگاہی دے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈرائیونگ لائسنس کی اہمیت بارے بھی بتایا اور میڈیا کے توسط سے استدعا کی کہ کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل ہرگز نہ دی جائے کیونکہ نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے ہیڈانجری کے باعث جان کی بازی ہارجاتے ہیں

لہذا تمام والدین اپنے بچوں کو 18سال کی عمر میں پہنچتے ہی ڈرائیونگ لائسنس بنواکردیں اور انہیں بھی ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل نہ چلانے دیں ۔

اک نظر ان خبروں پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button