نیشنل پریس کلب وفد کی ستھرا پنجاب کے مینجر آپریشنز سمیع اللہ سے ملاقات
نیشنل پریس کلب کے وفد کی ستھرا پنجاب کے مینجر آپریشنز سمیع اللہ سے ملاقات، ستھراپنجاب منصوبہ
نے شہر کی مرکزی شاہراہوں اور گلی محلوں کو واقعی میں صاف ستھرا کردیاہے،

ہمارے پاس 1250 سے زائد عملہ صفائی دوشفٹوں میں کام کررہاہے جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر ایک ٹیم
سڑکوں، گلی محلوں میں صفائی کے فرائض سرانجام دے رہی تو دوسری جانب چھوٹی گاڑیوں پر تین رکنی
ٹیم کچرا اٹھاکر انہیں کولیکشن فلتھ ڈپو تک پہنچاتی ہے جہاں سے بڑی گاڑیاں وہ کچرا اٹھاکر مرکزی ڈپو تک
پہنچانے کے فرائض انجام دے رہی ہے۔

ستھرا پنجاب منصوبہ کے منیجر آپریشنز سمیع اللہ کا گزشتہ روز نیشنل پریس کلب رجسٹرڈ) رحیم یارخان
کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے اظہار خیال ۔ وفد کی قیادت کلب کے صدر فیاض محمودخان نے کی جبکہ جام
خالد محمود ایگزیکٹو ممبر اور اظہرحسین چوہدری انفارمیشن سیکرٹری بھی ہمراہ تھے۔

سمیع اللہ نے مزید بتایاکہ ستھراپنجاب منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا ایک اعلیٰ و احسن
اقدام ہے جس کے تحت پنجاب بھر میں اب شہر سمیت نواحی علاقہ جات بھی صاف ستھرے دکھائی دیتے
ہیں قبل ازیں میونسپل کمیٹی کے زیر انتظام عملہ صرف حاضری اور تنخواہ پر ہی نظرآتا ہے مگر ستھرا پنجاب
منصوبہ کا تمام عملہ شہر کی سڑکوں ،گلی اور محلوں میں نظرآتا ہے،
فرائض
روزانہ کی بنیاد پر ٹنوں کے حساب سے کچرا اٹھاکر ڈپوئوں تک پہنچایا جاتا ہے ،عملہ کی نگرانی اور انہیں
ہروقت کام میں مصروف رکھنے کے لیے نگران ٹیم بھی اپنا کام احسن طریقہ سے انجام دے رہی ہے ،عملہ
صفائی دوشفٹوں میں کام کررہاہے تاکہ کاروباری مراکز سمیت گلی محلوں کو بھی وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ
مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق بنایاجاسکے۔
انہوں نے مزید بتایاکہ بہت جلد ٹیرف سسٹم شروع کیا جائے گا جس کے تحت مارکیٹس اور گلی محلوں میں
ریکوری ٹیم ماہانہ صفائی بلز وصول کرسکیں گی۔
بلنگ کیٹیگریز
کیٹیگریز ترتیب دے دی گئی ہیں جس کے تحت کم سے کم ماہانہ فیس 200روپے اور زیادہ سے زیادہ
10000روپے رکھی گئی ہے ۔ شہری کمرشل ، دیہی کمرشل اور رہائشی علاقوں میں 5مرلہ سے 40مرلہ تک
کی کیٹیگری مرتب کی گئی ہے تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہواور ہر شخص باآسانی ماہانہ صفائی بل ادا
کرسکے۔ اس سلسلہ میں ریکوری آفیسرز بھرتی کیے جائیں گے جوانڈرپراسس ہے۔
اپیل
انہوں نے میڈیا کے توسط سے دکانداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بزنس بند کرنے کے دوران صفائی وغیرہ
کا کام انجام دے کر کچرا شاپروں میں بند کرکے سڑک کنارے رکھ دیں تاکہ صبح صفائی کے لیے آنے والا عملہ
اسے اٹھاکر ڈسٹ بن میں یا پھر ریڑھیوں کے ذریعے فلتھ ڈپو تک پہنچاسکیں۔
اسی طرح گلی محلوں میں رہنے والے مکینوں سے بھی استدعا کی ہے کہ وہ صفائی کے لیے آنے والے
عملہ کی کارکردگی یا شکایات بارے براہ راست انہیں مطلع کریں تاکہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنا
سکیں۔




